|
مارچ کا مہینہ تھا اور 47کا سال۔ لاہور میں ایک انگریزی روزنامے کی بنیاد رکھی گئی۔ اخبار کا نام ” پاکستان ٹائمز“ تھا اور مدیر اعلیٰ تھے
فیض احمد فیض۔ فیض صاحب نے نئے اخبار کا افتتاحی اداریہ لکھنے کے لیے قلم
اٹھایا اور لکھا ”پاکستان میں اور آسائشوں کی کمی ہو تو ہو، اخبارات کی
کمی نہیں۔۔۔“
ماہ و سال کا ایک طویل وقفہ گزر چکا۔ اپریل کا مہینہ ہے اور سنہ 2008۔
لاہور سے ایک نئے اردو ہفت روزہ کا حرف آغاز قلم بند کرتے ہوئے ہمیں اپنی
کم علمی اور بے ہنری پر تاسف کے علاوہ یہ ملال بھی ہے کہ اب اہل پاکستان
کی محرومیوں میں معیاری اردو صحافت کا بحران بھی شامل ہوچکا۔ فکر اور بیان
میں زوال کی اس صورت کا تقاضہ تھا کہ چراغ حسن حسرت، سبط حسن اور ابراہیم
جلیس کی فکری گہرائی اور فنی توازن سے اس کا مداوا ہوتا۔ لیکن یہ اہل صفا
نذر خاک ہوئے۔ اب بیان اور فغاں کی جو آشفتہ سرچنگاری ملے اسی سے امید کی
جوت جگانا ہوگی۔ امید کا مستقل پہلو تو بجائے خود اس حقیقت میں مضمر ہے کہ
سولہ کروڑ انسانوں پر مشتمل قوم کے وقتی حالات پریشان کن ہوسکتے ہیں لیکن
زندہ ورثے، بے پناہ جودت طبع، انسانی صلاحیتوں، قدرتی وسائل اور جمہوری
رجحانات سے مالا مال قوم کا پیداواری، تمدنی، علمی، معاشی اور جمہوری
امکان مردہ نہیں ہوسکتا۔
آزادی
اظہار ایک بنیادی انسانی حق ہے۔یہ حق وہ لکیر ہے جو مویشی باڑوں کو مہذب
انسانی سماج سے جدا کرتی ہے۔ آزادیِ اظہار کا معیار یہ ہے کہ اپنے ضمیر کی
روشنی میں صحیح وقت اور صیحح مقام پر اپنی حقیقی رائے کا بلا خوف و خطر
اعلان کیا جائے۔ ظاہر ہے کہ ایسے اظہار میں اختلاف رائے پیدا ہونا لازم
ہے۔ خیالات کی مختلف صورتیں اور فکر کے نئے زاویے سامنے آتے ہیں۔ انسانی
رویوں کی مختلف پرتیں تشکیل پاتی ہیں۔ جدید دنیا میں صحافت معلومات ،
خبراور خیال کے تبادلے کا بنیادی ذریعہ ہے۔ گزشتہ برسوں میں ذرائع ابلاغ
کی دنیا میں حیرت انگیز انقلاب برپا ہوا ہے۔ اخبارات ، ریڈیو اور ٹیلی
ویڑن سے چل کر ہم فیکس ، انٹر نیٹ اور سیٹلائٹ تک جا پہنچے ہیں۔ اس سے
خیال اور خبر کی طاقت بڑھی ہے لیکن ان کا خوف کم نہیں ہوا۔ حکمران طبقہ
نئے خیال سے خوفزدہ ہوتا ہے۔ زمین پر سر جھکا کر گھاس ڈھونڈتی بھیڑوں پر
حکمرانی کرنا آسان ہوتا ہے۔ مگر ایسی حکمرانی میں قبرستان کا سناٹا اور
مرگھٹ کا خوف پایا جاتاہے۔ بے خبری ، لاعلمی اور خاموشی کے اندھیر ے میںبد
عنوان ، نااہل اور ظالم حکومت کا درندہ پلتا ہے۔ترقی ، انصاف اور امن کی
برکھا ان بنجر ٹیلوں پر نہیں برستی جہاں نئے خیالات ، پر امن اختلافِ رائے
اور اطلاعات کے بے روک ٹوک تبادلے کے بیج نہ بوئے جائیں۔
ریاست
یا تو مفاد عامہ کا ذریعہ ہے یا مخصوص گروہی اور طبقاتی تحفظ کا آلہ ہے۔
جمہوری ریاست اظہار کی حوصلہ افزائی کرتی ہے تاکہ معاشرے میں موجود مختلف
گرہوں کے خیالات ، مفادات اور خدشات کھل کر سامنے آسکیں۔کیونکہ کھلے بحث و
مباحثے کے بغیر شہریوں کے مفادات کا بہترین تحفظ ممکن ہی نہیں۔ دوسری طرف
غیرجمہوری ریاست طاقت کے بل پراختلافی آوازوں کو دبا دیتی ہے لیکن زخم
اندر ہی اندر پھیلتے رہتے ہیں۔ ترقی یا زوال کے بارے میںقابل اعتماد پیش
گوئی کرنا ممکن نہیں رہتا۔بے خبر عوام کو ایک صبح آگاہ کیا جاتا ہے کہ
دشمنوں کی سازشیں کامیاب ہو گئیں ہیں۔ کسی قوم کے خلاف سب سے بڑی سازش اس
کی عوام کو اطلاعات کے شفاف عمل سے محروم رکھنا ہے۔
ہفت
روزہ صحافت کا بنیادی کردار روزنامہ صحافت سے کچھ مختلف ہے۔ خبر کے
واقعاتی حقائق کی ترسیل اہم ہے۔ مگر آج کی دنیا میں اس کے کہیں بہتر اور
برق رفتار ذرائع موجود ہیں۔ ہفت روزہ صحافت کا بنیا دی کام واقعات کی تہہ
میں پوشیدہ سیاسی، سماجی اور معاشی محرکات کو سامنے لانا ہے ۔واقعات کا
تنا ظر پیش کرنا اور پالیسیوں کی کو تاہیاں سامنے لانا ہے ۔قوانین کے سقم
واضح کرنا ہے ۔جدید انسانی تاریخ میں کسی قوم نے آزاد صحافت کے بغیر ترقی
نہیں کی۔دنیا بھر میں علوم فروغ پذیر ہیں۔انسانی فکر ترقی پا رہی ہے۔
مہارتیں روز بروز بڑھ رہی ہیں۔ معیار زندگی بلند ہو رہے ہیں لیکن پسماندگی
اور غربت نے ہمارا ہی گھر کیوں دیکھ رکھا ہے۔
ہفت
روزہ ہم شہری کی صحافتی پالیسی یہ ہے کہ ذمہ دار ، حقیقت پسنداور بے خوف
تحریروں کی مدد سے معاشرے کے مختلف طبقات، گروہوں اور ریاستی اداروں میں
رابطے نیز اطلاعات کے تبادلے کا ایسا متحرک ذریعہ سامنے آئے جو روز بروز
پھیلتے انسانی علوم سے رہنمائی لیتا ہو۔ فنون و ثقافت میں مشترکہ انسانی
میراث سے مہمیز ہوتا ہو۔ ایسے خوشحال، جمہوری اور مستحکم پاکستان کی تعمیر
کا بیڑا اٹھایا جائے جہاں ہر شہری ایک آزاد اور پر وقار قوم کا باشندہ ہو۔
ایسی قوم جس کے افراد علمی کاوشوں اور تخلیقی اظہار کے لیے دنیا میں
پہچانے جائیں۔ جہاں علم کو طاقت اور انصاف کو جبر پر بالا دستی حاصل
ہو۔جہاں اختیار پر قاعدے کی بندش ہو۔ جہاں انسانوں کی محرومیوں کا مداوا
خیرات سے نہیں بلکہ قانون اور اداروں کی مدد سے ہوتا ہو ۔جہاں بچوں کی
ہنسی کا نغمہ جاگے۔جوانوں کو خوشیوں کا حق ملے اور بزرگوں کو آسودگی نصیب
ہو۔
آپ
سمجھتے ہوں گے کہ امید اور رجائیت کی یہ پرواز زمینی حقیقتوں سے بہت دور
نکل گئی۔ لیکن یہ خواہش خوشحال پاکستان کے دروازے پر ہم شہریوں کی دستک
ہے۔ پاکستان میں اگر محرومی، امتیاز، جبر اور ناانصافی کی روایت مضبوط ہے
تو یہ دستک بھی نئی نہیں۔ ”ہم شہری” کی دستک سنائی دیتی رہے گی۔
|